سوال

ایک شخص کہتا ہے کہ” السلام “کے”م“ سے پہلے سلام نہیں پھیرنا چاہئے کیونکہ اس سے پہلے انسان نماز میں ہوتا ہے اگر سلام پھیر لے گا تو نماز میں التفاتِ وجہ پایا جائے گا اس لئے السلام کہنے کے بعد چہرہ پھیرنا ضروری ہے،کیا مسئلہ درست ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اختتامِ نماز کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں بائیں چہرہ پھیر تے ہوئے السلام علیکم کے کلمات کہے جائیں لہٰذا اس آدمی کی مذکورہ بات کی صراحت فقہاءِ کرام کی عبارات میں کہیں نہیں ملتی اور یہ التفاتِ وجہ اختتامِ صلاۃ کے لئے ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

لما فی الھندیة:(1/76،رشیدیة)
ثم يسلم تسليمتين) تسليمة عن يمينه وتسليمة عن يساره ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه حتى يرى بياض خده الأيمن وفي التسليمة الثانية عن يساره حتى يرى بياض خده الایسر…ويقول: السلام عليكم ورحمة الله
وفی المحیط البرھانی:(2/128،داراحیاء)
فیسلم بتسليمتين تسليمةعن يمينه وتسليمة عن یسارہ ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه وفي التسليمة الثانية عن يساره …..وعندنا يقول: السلام بالألف واللام
وکذافی الھدا یة:(1/104،رشید یة)
وکذا فی فتح القد یر:(1/327،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/502،رشید یة)
وکذا فی التاتار خانیة:(2/188،رشید یة)
وکذا فی ملتقی الا بحر: (1/154،المنار)
وکذا فی منیة المصلی:(101،مجید یة)
وکذا فی رد المختار علی الدر:(2/293،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1442/2021/2/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔