سوال

امام صاحب نےفجرکی نمازمیں “خَلَقَ الإِنْسَانَ”کےبجائے”خلق الإنسانُ”پڑھ دیا،اس سے نمازکا کیاحکم ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

صورت مسؤلہ میں راجح قول کےمطابق نمازہوگئی ۔

لمافی ردالمحتار:(2/473،رشیدیہ)
والقاعدۃ عندالمتقدمین:ان ماغیرالمعنیٰ تغیرایکون اعتقادہ کفراًیفسد فی جمیع ذالک}وبعداسطر{واما المتأ خر ین۔۔۔۔۔۔۔فاتفقواعلی ان الخطأفی الاعراب لایفسدمطلقا}وبعداسطر{فالأولی الاخذفیہ بقول المتقدمین لانضباط قواعد ہم وکون قولہم احوط۔
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/150،رشیدیہ)
ان کان الخطأفی الاعراب فقدذکرناانہ ان لم یفحش لاتفسدصلاتہ عندالکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان فحش بأن قرأمالوتعمدبہ یکفر فکذالک عندالمتأخرین،والاعادۃ احوط
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1037،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(1/81،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(122،زمزم)
وکذافی المحیط البرہانی؛2/76،ادارةالقرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1 /256،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(2 /109،فاروقیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/113،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:66

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔