سوال

امام کے ثناء پڑھ لینے کے بعد مقتدی (چاہے مدرک ہو یا مسبوق اور نماز سری ہو یا جہری) کے ثناء پڑھنےکاکیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جب امام قراءت شروع کردے تو مقتدی ثناء نہیں پڑھے گا،چاہے نماز سری ہو یا جہری ۔ البتہ مسبوق جب اپنی بقیہ رکعات کی قضاء کے لیے کھڑا ہوگا تب ثناء پڑھے گا۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (259،قدیمی )
” ثم أعلم إن الثناء يأتي به كل مصل فالمقتدي يأتي به ما لم يشرع الإمام في القراءة مطلقا سواء كان مسبوقا أو مدركا في حالة الجهر أو السر. “
وفی الموسوعہ الفقہیہ: ( 4/ 53، علوم اسلامیہ)
” قال الحنفية: لا يأتي المأموم بدعاء الاستفتاح إذا شرع الإمام في القراءة، سواء أكان الإمام يجهر بقراءته أم يخافت. “
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار : ( 1/ 218 ، رشیدیہ)
وکذا فی قولہ تعالی فی سورۃ الاعراف:الآیۃ (204 )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-17
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:155

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔