الجواب حامداً ومصلیاً
بے پردہ عورت پر نظر پڑ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (2)(ا)جب سورج آسمان پر سفر کرتے ہوئے اس کے بالکل درمیان میں پہنچ جاتا ہے (عام طور پر کہتے ہیں ،سورج بالکل سر پر پہنچ گیا) تو اسے “استواء” یا ” نصف النہار” کہتے ہیں۔اس کے بعد جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع کردے تو حقیقت میں “زوال” اس وقت کو کہتے ہیں ۔ لیکن عموما “نصف النہار ” کو ہی زوال کہہ دیا جا تا ہے ۔(ب) اس وقت میں نماز پڑھنا منع ہے ،اس کے علاوہ دیگر عبادات ذکر وتلاوت وغیرہ کر سکتے ہیں۔(ج)زوال کا وقت دوپہر کو ہوتا ہے لیکن گھڑی کے حساب سے اس کی کوئی خاص تعیین نہیں کی جا سکتی ،کیونکہ یہ ہر علاقے میں روزانہ کے حساب سے بدلتارہتا ہے ۔اوقات نماز کے نقشوں میں یہ وقت دیکھا جا سکتا ہے ۔ہماری تحقیق کے مطابق ساہیوال شہر میں زوال کا وقت پورا سال تقریبا 11:50 سے 12:30 کے درمیان کسی وقت ہوتا ہے ۔
لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 13، رشیدیہ)
“مس الرجل المرأۃ والمرأۃ الرجل لاینقض الوضوء کذا فی المحیط . “
وفی فتح القدیر: (1 /56 ،رشیدیہ )
” ولا یجب من مجرد مسھا ولو بشھوۃ ولو فرجھا،ولا من مس الذکر . “
وفی الدر المختار مع رد المحتار: (2 / 44 ،دار المعرفہ )
الصلاة فيها على النبي – صلى الله عليه وسلم – أفضل من قراءة القرآن وكأنه لأنها من أركان الصلاة، فالأولى ترك ما كان ركنا لها. وفی الشامیہ: (قوله: الصلاة فيها) أي في الأوقات الثلاثة وكالصلاة الدعاء والتسبيح كما هو في البحر۔۔۔ فإن مفاده أنه لا كراهة أصلا؛ لأن ترك الفاضل لا كراهة فيه.
وفی الشامیہ:(2 /38،37 ،دار المعرفہ )
(قوله: واستواء) التعبير به أولى من التعبير بوقت الزوال؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعا بحر عن الحلية: أي لأنه يدخل به وقت الظهر كما مر. وفي شرح النقاية للبرجندي: وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فيه
وکذافی المحیط البرھانی: (2 / 10،دار احیاء التراث )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 1/276 ، قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن: ( 1/176،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
وکذا فی التاتر خانیہ: (1 /268 ، فاروقیہ-کوئٹہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (24 /54 ،علوم اسلامیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (1 /434،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلدنمبر:17 فتوی نمبر :154