الجواب حامداً ومصلیاً
سوال میں مذکورہ صورت حال میں، بعض علماءکرام کے ہاں ’’طلاق اول دے کر‘‘سے ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور’’اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے‘‘ سے دوسری طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس طرح ان کے نزدیک دو طلاق بائنہ واقع ہو جائیں گی۔
جبکہ بعض دیگر علماء کرام کے نزدیک اس سے ایک ہی طلاق ہوگی ۔اور باقی دونوں جملے’’اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ پہلی طلاق ہی کا ثمرہ اور نتیجہ بیان کرنے اور اسی کو پختہ کرنے کے لیے ہیں۔ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے ،کہ اس صورت میں ایک طلاق ہوگی، لیکن ’’ اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ کی وجہ سے یہ بائنہ ہو جائے گی۔ اب اگر میاں، بیوی چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
لما فی الدر المختار مع الشامیہ: (4 / 509، دار المعرفہ)
“[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين ۔وقال الرافعی:قول الشارح:(کرر لفظ الطلاق وقع الکل الخ ) قال سعدی افندی:اقول لک ان تقول:لم لا یجوز ان یکون من قبیل قولہ علیہ الصلاۃ والسلام :(فنکاحھا باطل باطل) واحتمال کونھا جملا لا یجدی نفعا اذ الطلاق لایثبت بالشک مع ان الحذف خلاف الاصل، واللائق بحال المسلم ان لا یجمع الثلاث فی وقت . ”
وکذافی الھندیہ: (1 / 355،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: ( 4/ 157، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ: ( 4/447 ، دار المعرفہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (2 /130 ،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :153