سوال

انٹر نیٹ پر ویب سائٹ وغیرہ ہیں ان پر جا کر فری اکاؤنٹ بنواؤ،وہ آپ کو ویڈیوز بھیجیں گے،جو مختلف کمپنیوں کےاشتہارات کے طور پر ہوتی ہیں،جن کے دیکھنے کے بعدآپ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیجے گے،ویڈیوز دیکھنے کے درمیان آپ موبائیل پر کوئی دوسرا کا م نہیں کر سکتے،ویڈیوز میں بعض دفعہ تشہیر کرنی والی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں اور ویب سائٹ والوں کا موقف یہ ہے کہ رقم ان کمپنیوں سے ہی ملتی ہے جن کے اشتہارات ہوتے ہیں،کیا یہ درست ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بڑی تعداد میں اس طرح کی ایپس اب وجود میں آئی ہیں جن میں حرام ،ناجائزاور شر کوپرموٹ کرنے اور اس کی تشہیر کرنے پراجرت دی جا رہی ہے،ابھی تک ہمارے علم میں نہیں ہےکہ کوئی ایسی ایپ وجود میں آئی ہوجس میں کسی جائز کام اور مباح امورمثلاً فن اور ہنروغیرہ کی تشہیر کی جا رہی ہو،لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی جس ویب سائٹ کا ذکر ہےوہ ایسی ہی ہے جس میں بہت سارے ناجائز کام کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے،لہذا اس سے حاصل شدہ آمدنی جائز نہیں ہو گی۔

لما فی بدائع الصنائع : ( 4/39  ،رشیدیہ )
 وعلی ھذا یخرج الاستئجار علی المعاصی انہ لا یصح، لانہ استئجار علی منفعۃ غیر مقدور الاستیفاءشرعاً کاستئجار الانسان للعب واللھو وکاستئجار المغنیۃ والنائحۃ للغناء والنوح
وفی الھندیة: ( 4/449  ،رشیدیہ )
 ولا تجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء والنوح والمزامیر والطبل وشئ من اللھو
وکذافی خلاصة الفتاوی: (3 /116  ، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 8/35  ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایة : ( 3/ 429 ،البشری )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (4 /394  ،طارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : ( 15/132  ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

18/9/1444/9/4/2023

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :21

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔