سوال

انگریزوں (کفار) کا اترا ہوا لباس مسلمانوں کے لیے پہننا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ان کو اچھی طرح پاک کر لیا جائے اور غیر اسلامی وضع کو تبدیل کر لیا جائے تو پہن سکتے ہیں۔

لمافی بدائع الصنائع: (01 /236  ،رشیدیة )
 ولا بأس بلبس ثیاب اھل الذمۃ والصلاۃ فیھا الا الازار والسراویل فانہ تکرہ الصلاۃ فیھا و تجوز۔اماالجواز فلان الاصل فی الثیاب ھوالطھارۃ فلاتثبت النجاسۃ بالشک   . . . . .واماا لکراہۃ فی الازار والسراویل فلقربھا من موضع الحدث ،وعسی لایستنزھون من البول فصار شبیہ ید المستیقظو منقار الدجاجۃ المخلاۃ
وفی رد المحتار علی الدر: ( 01/  622،بیروت )
 قولہ:( ثیاب الفسقۃ الخ) قال فی الفتح:وقال بعض المشایخ: تکرہ الصلاۃ فی ثیاب الفسقۃ لانھم لایتقون الخمور قال المصنف: یعنی صاحب الھدایۃ: الاصح انہ لایکرہ لانہ لم یکرہ من ثیاب اھل الذمۃ الا السراویل مع استحلالھم الخمر،فھٰذااولٰی
وکذافی المبسوط للسرخسی: (01 /97  ، بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة: (36 /306  ، علوم اسلامیة)
وکذافی  فتح القدیر: (01 /211  ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

27/06/1445/10/1/2024

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :98

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔