الجواب حامداً ومصلیاً
مومل لفظ نہیں مل سکا ،اگرلفظ”مُؤَمِّل”ہوتو اس کو دو طرح پڑھاجاسکتا ہے،ایک “مُؤَمِّل” “م”پر پیش ہمزہ پر زبر اور دوسرے “م”پر شداور زبر کے ساتھ معنی ہوگا “امیدکرنیوالا”۔دوسرامُؤَمِّل دوسرے”م” پر شد اور زبر کے ساتھ ،ہو تو معنی ہوگا”جس سے امید کی جائے”،دونوں اعتبار سے نام رکھا جا سکتا ہے۔
لمافی القاموس الوحید: ( 134 )
امّلَہٗ ، تامیلاً:امیدرکھنا،امیددلانا، ۔۔۔۔ المُؤَمِّل: امیدوار
وفی لسان العرب: ( 212،بیروت )
الاَمَل و الاَمْل و الاِمْل:الرجاء. . . . . وَاَمَّلَہٗ ، یقال: اَمَلَ خَیْرَہٗ
وکذافی المنجد: ( 18،بیروت )
وکذا فی الفتاوی التاترخانیة: (18 /228 ،فاروقیة )
وکذافی سنن ابی داؤد: (2/334 ،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی: (02/572 ،رحمانیة)
وکذافی الصحیح المسلم: (951 ،دارابن حزم)
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/05/1445/11/12/2023
جلد نمبر :31 فتوی نمبر :116