سوال

ايك آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلان کام ہو گیا تو میں ایک ہزا ر روپے اللہ کے نام پر دوں گا ، پھر اس کا وہ کام ہو گیا، اب وہ ایک ہزار کی دینی کتابیں خرید کر گاؤ ں کی مسجد میں جو بچے پڑھتے ہیں ان کو دینا چاہتا ہے،یعنی وہ اس مسجد میں پڑھنے والے بچوں پر وقف کرنا چاہتا ہے ، کیا وہ اس رقم سے یوں کتب دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مستحق بچوں کو مالک بنا کر کتا بیں دینے سے نذر پوری ہو جائے گی، مسجد میں محض وقف کرنے سے نذر پوری نہیں ہوگی۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:(2/344،سعید)
ویشترط ان یکون الصرف (تملیکا ) لا اباحۃ کما مر (لا) یصرف (الی بناء) نحو (مسجدو) لاالی(کفن میت وقضاء دینہ)
وفی خلاصةالفتاوی:(1/242،رشیدیہ)
واذا دفع الزکوۃ الی الفقیر لا یتم الدفع ما لم یقبض الفقیر او یقبضھا للفقیر من لہ ولایۃ علی الفقیر.
وکذ ا فی رد المحتار:(3/735، سعید)
وکذا فی البحر الرائق :(4/498،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2555،رشیدیہ)
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(721،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/214،بیروت)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/162،رشیدیہ)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440، 2019/3/31
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :112

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔