سوال

شوہر باہرسے آیا تھا اس نے شراب پی رکھی تھی بیوی اس کے پا س آئی اس نے کہا کہ مجھے خرچے کے لیے تھوڑے سے پیسے دے دو ۔شوہر نے دینے سے انکار کر دیا ،بیوی نے اس کی جیب میں سے پیسے نکال لیے ۔شوہر نےکہنا شروع کر دیا تم نے پیسے تو نکال لیے ہیں لیکن میں نے تمہیں رکھنا نہیں ہے ،تمہیں چھوڑ دینا ہے ۔ بیوی نے کہا :چھوڑنا اتنا آسان تو نہیں ۔ شوہر نے کہا کہ جاؤ اپنے بھائیوں کو بلا لاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ،میں نے تمہیں طلاق دی ۔بیوی چیختے ہوئے اٹھی ،ٹھنڈے پانی کا گلاس اس کے سر میں ڈالا ،اس کی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارے اور اسے کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ کو ہوش تو ہے؟شوہر نے کہا ہاں مجھے ہوش ہے ،میں نے تمہیں کہا جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ، اس سے تھوڑی دیر بعد وہ کہتا ہے میں نے یہ الفاظ نہیں کہے، شوہر نے یہ اکیلے میں کہا ہے ،بعد میں مکر گیا۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مذكوره ميں شوہر کے ان الفاظ ” میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی “سے دو طلاق رجعی واقع ہو گئیں اور بعد میں اس کے ان الفاظ ” میں نے تمہیں کہا جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی ” سے ہماری رائے کے مطابق تیسری طلاق نہیں ہوئی ، بلکہ وه پہلے الفاظ کو دہرا رہا ہے۔لہذا عدت کے دوران شوہر رجوع کرسکتا ہے اور عدت کے بعد نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔

لمافی بدائع الصنائع:( 3/158، رشیدیہ)
اماالسکران : اذا طلق امراتہ، فان کان سکرہ بسبب محظور بان شرب الخمر او النبیذ طوعاحتی سکروزال عقلہ فطلاقہ واقع عند عامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم.
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6883،رشیدیہ)
اما السکران بطریق محرم، وھو الغالب بان شرب الخمر عالما بہ ، مختارا لشربہ او تناول المخدر من غیر حاجۃ او ضرورۃ عند الجمھور غیر الحنابلۃ، فیقع طلاقہ فی الراجح فی المذاھب الاربعۃ، عقوبۃ وزجرا عن ارتکاب المعصیۃ.
وکذا فی البحرا لرائق:(3/431،32،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(4/394،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/391،بیروت)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/168،الطارق)
وکذا فی الھداية:(2/337،38،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/353،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(4/432،رشیدیہ)
وکذافی البناية:(5/26،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :167

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔