سوال

ايك شخص کی روزہ رکھنے کی نیت نہ تھی طلوع آفتاب کےبعد تک اس نے کچھ کھایا پیا نہیں، اب اس نے روزہ رکھنے کی نیت کر لی، پھر اس شخص نے کچھ کھا کر روزہ توڑ دیا تو اس پر کفارہ اور قضاء دونوں ہیں یا صرف قضاء ہے؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

مذکورہ شخص پر صرف قضا واجب ہے۔

لما فی مجمع الانھر:(1/355،359،المنار)
“ویجب القضاء فقط بلا کفارۃ……(وکذا لو اصبح غیرنا وللصوم فاکل) فیجب القضاء ولا کفارۃ علیہ عند الامام سواء اکل قبل الزوال او بعدہ.”
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/478،رشیدیہ)
“(ولو نوی مسافر الفطراو لم ینو(فاقام ونوی الصوم فی وقتھا) قبل الزوال(صح)مطلقا(ویجب علیہ) الصوم(لو) کان (فی رمضان سافر فیہ)ای فی ذلک الیوم(و)ولکن(لاکفارۃ علیہ) لو افطر فیھما”
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/366،بیروت)
وکذا فی التاترخانية:(3/424،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/483،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/417،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اكرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:84

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔