الجواب حامداً ومصلیاً
اگر خوشبو کی مقدار کم ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کامل عضوپر لگ جائے تو دم لازم ہوگا ،اگر کامل عضو پر نہیں لگی توصدقہ لازم ہوگا اوراگر خوشبو کی مقدار زیادہ ہے تو اس کاحکم یہ ہے کہ اگرچوتھائی عضو پر بھی لگ جائے توبھی دم لازم ہوگا ،چوتھائی عضو سے کم پر صدقہ لازم ہوگا ۔
صورت مسئولہ میں چونکہ خوشبو کی مقدار زیادہ ہے تو اگر چوتھائی ہاتھ پر لگی ہے تو بھی دم لازم ہوگا اگر چوتھائی ہاتھ سے کم پر لگی ہے تو صدقہ لازم ہوگا۔
لما فی الھندیة:(1/241،رشیدیة)
والصحیح أن یوفق و یقال ان کان الطیب قلیلا فالعبرۃ للعضو لاللطیب حتی لو طیب بہ عضوا کاملا یکون کثیرا یلزمہ دم وفیما دونہ صدقۃ ،وان کان الطیب کثیرا فالعبرۃ للطیب لاللعضو حتی لو طیب بہ ربع عضو یلزمہ دم
وفی ار شاد الساری :(346،فاروقیة)
ثم ان کان الطیب قلیلا فالعبرۃ للعضو )ای لا بالطیب( وان کان )ای الطیب (کثیرا فالعبرۃبالطیب )ای لا بالعضو ، وھذا ہو الصحیح کما قالہ شیخ الاسلام وغیرہ توفیقا بین الأقوال حیث قالوا :اذا ا ستعمل طیبا کثیرا فاحشا فعلیہ دم وان کان قلیلا فصدقۃ
وکذافی غنیة الناسک:(244،ادارةالقرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع :(2/418،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(3/4،رشیدیة)
وکذا فی ردالمحتار :(2/545،سعید)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/588،فاروقیة)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:142