سوال

اگرکوئی مسلمان، ہندو عورت کےساتھ ان کے مندر میں جاکرنکاح کرےتوکیساہے،اوراس میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسلمان کاہندوعورت سےنکاح کرناجائزنہیں اورنہ ہی اس مجلس میں شرکت کرنادرست ہے۔

لما فی القرآن المجید:(سورۃ البقرۃ/221)
“ولا تنکحواالمشرکات حتی یؤمنّ.”
وفی الھندیہ:(1/281،رشیدیہ)
” لایجوز نکاح المجوسیات ولاالوثنیات وسوأ فی ذلک الحرائرمنھن والاماء.”
وکذافی المحیط البرھانی:(4/110،داراحیاء )
“فنکاح الکتابیۃ لایجوزلمسلم بحال.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(/ ، ) وکذا فی تفسیرالخازن:(1/960،رشیدیہ)
وکذا فی تفسیرروح المعانی:(2/118،داراحیاء) وکذا فی تفسیرمظھری:(5/145،رشیدیہ)
وکذا فی تفسیرالقرطبی:(3/80،داراحیاء ) وکذا فی التفسیرالکبیر:(2/221،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الاکلیل للامام النسفی:(2/148،دارالکتب )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔