الجواب باسم ملھم الصواب
اگر اس نے پہلی رکعت کا سجدہ نہیں کیا تونماز توڑ کر جماعت میں شامل ہوجائے ،اگر سجدہ کر لیا ہے تو چار رکعت والی نماز میں تو دو رکعت مکمل کرے پھر جماعت میں شریک ہو جائے ۔اگر تیسری رکعت کا سجدہ بھی کر لیا تو نماز مکمل کرے ،بعد میں نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو جائے ،لیکن اگر ایسی صورت نماز عصر میں پیش آجائے تو اپنی نماز مکمل کرنے کے بعد عصر کی جماعت میں شامل نہ ہو۔اگر دو رکعت یاتین رکعت والی نماز یعنی فجر یا مغرب ہو،تو اگر دوسری رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے جماعت کھڑی ہو گئی تو اپنی نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہو جائے ،اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو اپنی نماز مکمل کرے،بعد میں جماعت میں شامل نہ ہو۔
لما فی” الشامیۃ”:(2/610،دارالمعرفۃ)
“شرع فی فرض فأقیم قبل أن یسجد للأولى قطع واقتدى، فإن سجد لہ، فإن فی رباعی أتم شفعا واقتدى ما لم یسجد للثالثۃ، فإن سجد أتم واقتدى متنفلا إلا فی العصر، وإن فی غیر رباعی قطع واقتدى ما لم یسجد للثانیۃ، فإن سجد لھاأتم ولم یقتد. اهـ. ح (قولہ أو قیدھا) عطف على لم یقید: أي وإن قیدہابسجدۃ فی غیر رباعیۃ کالفجر والمغرب فإنہ یقطع ویقتدی أیضا ما لم یقید الثانیۃ بسجدۃ، فإن قیدھا أتم، ولا یقتدی لکراہۃ التنفل بعد الفجر، وبالثلاث فی المغرب، وفی جعلھا أربعا مخالفۃ لإمامہ۔”
وفی “بدائع الصنائع”:(1/641،642،رشیدیۃ)
“وأما إذا شرع فی الفرض ثم أقیمت الصلاۃ فإن كان فی صلاة الفجر یقطعھا ما لم یقید الثانیۃ بالسجدۃ؛ لأن القطع وإن كان نقصا صورۃ فلیس بنقص معنى۔۔۔ وإذا قید الثانیۃ بالسجدۃ لم یقطع؛ لأنہ أتى بالأكثر وللأكثر حكم الكل، وإن كان فی صلاۃ الظھر فإن كان صلى ركعۃ ضم الیہ أخرى، لأنہ یمكنہ صون المؤدى واستدراك فضیلۃ الجماعۃ۔۔۔۔ على لسان رسول اللہ – صلى اللہ علیہ وسلم – وإن صلى ركعتین تشھد وسلم لما قلنا، وكذا إذا قام إلى الثالثۃ قبل أن یقیدھا بالسجدۃ یعود إلى التشھد ویسلم۔۔۔۔ فإن كان قید الثالثۃ بالسجدۃ أتمھا۔۔۔۔ وأما فی المغرب فإن صلى ركعۃ قطعھا؛ لأنہ لو ضم إلیھا أخرى لأدى الأكثر فلایمكنہ القطع.”
وکذا فی الھندیۃ:(119/1،رشیدیۃ)۔
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)2/310،311،فاروقیۃ)
وکذا فی مجمع الانہر:)1/209،208،مکتبۃ المنار(
وکذا فی الھدایۃ:)1/158،رحمانیۃ(
وکذا فی محیط البرھانی:(2/244،243،242،241،دار احیاء(
وکذا فی البحر الرائق:)2/124و127،126،رشیدیۃ(
وکذا فی المبسوط :)1/175،174،دارالمعرفہ(
وکذا فی الفقہ الحنفی:)1/163،162،الطارق(
واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1440:،ء2019/1/20
جلد نمبر :17فتوی نمبر :97