سوال

مسجد خیف “کی کوئی فضیلت یا خصوصیت ہو تو بتائیں ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

ایک تو “مسجد خیف “میں خودحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں ادا کیں اور خطبہ ارشاد فرمایا ہے،دوسرا روایات میں آیا ہے کہ ستر انبیاء علیہم السلام نے “مسجد خیف “میں نماز پڑھی ہے اور بعض روایات میں ہے کہ” مسجد خیف “میں ستر انبیاء علیہم السلام کی قبریں ہیں۔اور دار قطنی میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام بھی “مسجد خیف “میں مدفون ہیں ۔

وفی “معجم الکبیر” :(6/13،دارالکتب)
“عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: صلی فی مسجد الخیف سبعون نبیا منھم موسی کانی انظر الیہ وعلیہ عباءتان قطوانیتان۔۔۔الخ”
وفی” سنن دار قطنی” :(2/58،دارالکتب)
” عن ابن عباس قال:صلی جبریل علیہ السلام علی آدم علیہ السلام کبر علیہ اربعا ،صلی جبریل بالملائکۃ یومئذ ، ودفن فی مسجد الخیف واخذمن قبل القبلۃ ولحد لہ وسنم قبرہ۔”
وفی “مجمع الزوائد”:(3/481،دارالکتب)
“وعن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :(فی مسجد الخیف قبرسبعون نبیا )رواہ البزار، ورجالہ ثقات۔”
وکذا فی “جامع الترمذی”(1/154،153،رحمانیہ)
وکذا فی” سنن النسائی” (1/151،رحمانیہ)
وکذافی “الترغیب والترہیب”(1/61،رشیدیہ)
وکذافی “کنز العمال”(12/103،رحمانیہ)
وکذافی “المستدرک علی الصحیحین”(3/199،قدیمی)
وکذافی “سنن الکبری”(2/589،دارالکتب)

 

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440،2019/1/6
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :66

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔