سوال

اگر امام نے “وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ”کی جگہ “وَأَنْتُمْ لهُ غَافِلُونَ”پڑھ دیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

درست ہے۔

لما فی غنيةالمستملی:(476،رشیدیہ)
عن ابی منصور العراقی یعتبر عسر الفصل بین الحرفین وعدمہ وعنہ کل کلمۃ فیھا عین او حاء،او قاف، او تاء، وفیھا سین او صاد فقرء احدھما مکان الآخر لاتفسد
وکذا فی کتاب التجنیس:(1/488، علوم الاسلامیہ)
ابدال حرف بحرف اذا کان لایغیر المعنیٰ لاتفسد الصلوۃ ۔۔۔۔۔۔۔ نحو ما اذا قراء فاماالیتیم فلا تکھر واماالسائل فلا تنھرلان المعنی قریب
وکذا فی الفتاوی الولوالجية:(1/73، حرمين)
وکذا فی الدر المختار:(1/231، سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/ 61، احیاء تراث العربی)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:( 35/ 216،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/ 79، رشیدیہ)
وکذا في الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1037، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/81، فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440،2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:82

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔