الجواب حامداً ومصلیاً
(1)
مرحوم نے وقتی ضرورت یا مصلحت کے پیش نظر پلاٹ اپنی بہن کے نام لگوایا ، مالک بنانا مقصود نہ تھا ، لہذا اس پلاٹ پر بہن کا حق نہیں ، بلکہ مرحوم ہی اس کا مالک تھا ۔(2)بہن اس کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال نہیں کرسکتی۔(3)بہن بھائی مرحوم کے بیوی، بچوں کو اس پلاٹ سے محروم نہیں کرسکتے۔(4)چونکہ یہ پلاٹ بہن کی ملکیت نہیں ہے ، اس لیے اس کے مرنے کے بعد اس کا ترکہ شمار نہیں ہوگا ۔(5)مرحوم کے وفات پاتے ہی چونکہ یہ پلاٹ ورثاء کی ملکیت میں آچکا ہے ، اس لیے ان کی رضامندی (جبکہ وہ تمام بالغ ہوں)کے بغیراس پلاٹ یا اس کی قیمت کو صدقہ،خیرات وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ہے ۔
البتہ اگر مرحوم اپنی والدہ کا مقروض تھا ، تو والدہ اپنے قرض کے بقدر پلاٹ کاحصہ یا رقم لے سکتی ہیں ۔
لما فی الدر المختار:(6/463،سعید)
اعلم ان اسباب الملک ثلاثۃ ناقل کبیع وھبۃ وخلافۃ کارث واصالۃ وھو الاستیلاء حقیقۃ …او حکمابالتھیئۃ
وفی ردالمحتار:(4/508،سعید)
الثالثۃ ، لوکان مقبوضا فی ید المشتری امانۃ لایمکہ بہ
وفی الھدایة:(3/360،رحمانیہ)
ویباع فی الدین النقود ثم العروض ثم العقار یبدا بالایسر فالایسر لما فیہ من المسارعۃ الی قضاء الدین مع مراعاۃ جانب المدیون
وفیہ ایضاً:(4/651،رشیدیہ)
ولاتجوز بمازاد علی الثلث ……الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم
وکذافی الھندیة:(3/567،رشیدیہ)
وکذافی شرح الاشباہ والنظائر:(3/133،ادارةالقرآن)
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/279،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(5/432،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:177