سوال

ایک شادی شدہ شخص اپنی بیوی کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنے چچازاد بھائیوں کے سامنے آئے ،جبکہ بیوی یہ کہتی ہے کہ وہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں آپ کے ذہن میں صرف شک ہے ۔ شوہر کا مطالبہ ہے کہ وہ کبھی وہاں نہ جائے جہاں اس کے چچازاد بھائی موجود ہوں ، جب جب کوئی ایسا موقع آئے کہ اس لڑکی کے بھائی یا بہن یا ماں باپ کے ہاں کسی قسم کی خوشی یا غمی ہو ، تب تب ان دو(میاں بیوی ) کے درمیان بڑی حد تک لڑائی ہوجاتی ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔ اب شادی کو دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور دوبچے بھی ہوگئے ہیں ، اب شوہر لڑائی اور فساد سے تنگ آکر یہ کہتا ہے کہ تم نے ماں ،باپ اور بہن بھائیوں کےگھر اس صورت میں نہیں جانا جس صورت میں وہاں تمھارے چچازاد بھائی موجود ہوں حتی کہ اگر اس کا باپ بھی فوت ہوجائےیا کوئی بھی خوشی کا موقع ہو ،ورنہ شوہر کہتا ہے کہ اگر بیوی آئیندہ پھر چچازاد بھائیوں کی موجودگی میں وہاں جاتی ہے تو شوہر کوئی سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔ علمائے کرام رہنمائی فرمائیں؟ (نوٹ) شوہر اپنی بیوی کو اس کے بھائی ،بہن اور ماں باپ سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں لگاتا، مگر صرف ان حضرات کے سامنے جانے سے منع کرتا ہے جن سے ملنا اس کو ناپسند ہے اور وہ نامحرم بھی ہیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نامحرم رشتہ داروں سے بے پردہ ملاقات کرنا ، شوہر کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوتی چہ جائیکہ شوہر کی اجازت ہی نہ ہو ؟ اور بلاوجہ شوہر کی نافرمانی ، عورت کو بسا اوقات لعنت جیسی سخت سزا کی مستحق بنادیتی ہے ،اس لیے عورت کو چاہیے کہ جائز امور میں شوہر کی خوشی کو ترجیح دیکر اخروی بشارتوں کی مستحق بنے ، البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ اعتماد کی فضاء پیدا کرکے محبت و نرمی سے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے ۔ اور مصلحت کے ساتھ اسے پردہ کی تلقین کرے ۔

لما فی السنن لابن ماجة:(1/248،رحمانیہ)
عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لو امرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المراۃ ان تسجد لزوجھا ولو ان رجلا امر امراۃ ان تنقل من جبل احمر الی جبل اسود ومن جبل اسود الی جبل احمر لکان نولھا ان تفعل
وفی الدرالمختار:(3/603،سعید)
ویمنعھا من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ وان اذن کانا عاصیین
وکذافی ردالمحتار:(3/603،سعید)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/529،قدیمی)
وکذافی الھندیة:(1/557،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(2/268،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/331،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/187،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:133

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔