الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں نامحرم رشتہ داروں سے بے پردہ ملاقات کرنا ، شوہر کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوتی چہ جائیکہ شوہر کی اجازت ہی نہ ہو ؟ اور بلاوجہ شوہر کی نافرمانی ، عورت کو بسا اوقات لعنت جیسی سخت سزا کی مستحق بنادیتی ہے ،اس لیے عورت کو چاہیے کہ جائز امور میں شوہر کی خوشی کو ترجیح دیکر اخروی بشارتوں کی مستحق بنے ، البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ اعتماد کی فضاء پیدا کرکے محبت و نرمی سے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے ۔ اور مصلحت کے ساتھ اسے پردہ کی تلقین کرے ۔
لما فی السنن لابن ماجة:(1/248،رحمانیہ)
عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لو امرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المراۃ ان تسجد لزوجھا ولو ان رجلا امر امراۃ ان تنقل من جبل احمر الی جبل اسود ومن جبل اسود الی جبل احمر لکان نولھا ان تفعل
وفی الدرالمختار:(3/603،سعید)
ویمنعھا من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ وان اذن کانا عاصیین
وکذافی ردالمحتار:(3/603،سعید)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/529،قدیمی)
وکذافی الھندیة:(1/557،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(2/268،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/331،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/187،المنار)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:133