سوال

اگر باتھ روم اس طرح بنایا گیا ہو کہ صرف غسل کرتے ہوئے استقبالِ قبلہ یا استدبارِ قبلہ ہوتا ہو تو کیا حکم ہے؟ مطلب یہ کہ واش روم کی سیٹنگ ہی کچھ اس طرح ہے کہ پانی کا شاور شرقاً یا غرباً ہی لگ سکتا ہے ۔ براہ کرم اس کا شرعی حکم واضح فرما دیں۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورتِ مسئولہ میں غسل کرنے والا اپنا رخ شمال یا جنوب کی طرف کر لیا کرے ۔

لما فی مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی : ( 6 / 582 ، دار احیاء تراث العربی )
“عن ابی أیوب الأنصاری قال : قال رسول اللہ ﷺ : لا تستقبلوا القبلۃ بفروجکم و لا تستدبرو ھا.”
و فی فقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 1 / 108 ، الطارق )
“یستحب فی الغسل ما یستحب فی الوضوء ، الا أنہ یکرہ فی الغسل استقبال القبلۃ ، لما فیہ من کشف العورۃ.”
و کذا فی مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی : ( 105 ،قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی الفتاوی الھندیة : ( 1 / 14 ، رشیدیہ )
و کذا فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 1 / 319 ، رشیدیہ )
و کذا فی غنیة المستملی : ( 51 ، رشیدیہ )
و کذا فی البحر الرائق : ( 1 / 97 ، رشیدیہ )
و کذا فی مشکاة المصابیح : ( 1 / 50 ، رحمانیہ )
و کذا فی المرقاة : ( 2 / 149 ، دار الکتب العلمیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :64

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔