سوال

ہمارے علاقے میں جنازے کا اعلان مسجد کے اسپیکر کے ساتھ کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو شرکت میں سہولت رہتی ہے۔ اب ایک صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ یہ گناہ ہے، اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر جنازہ کا اعلان کرنا تو درست ہے البتہ گم شدہ چیزوں اور اشیاء کی خرید و فروخت وغیرہ کا اعلان جائز نہیں۔

لما فی شرح الطیبی علی مشکاة المصابیح: ( 2/275 ، دار الکتب العلمیہ )
وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا
“و یدخل فی ھذا کل امر لم یبن المسجد لہ، من البیع و الشراء، و نحو ذلک من أمور معاملات الناس و اقتضاء حقوقھم. “
وفی الصحیح لمسلم: ( 1/411، رحمانیہ )
عن سليمان بن بريدة، عن أبيه، أن رجلا نشد في المسجد فقال: من دعا إلى الجمل الأحمر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا وجدت، إنما بنيت المساجد لما بنيت له
وفی مرقاة المفاتیح: ( 2/411، المکتبة التجاریة )
(ضالة في المسجد) :… ويدخل في هذا كل أمر لم يبن له المسجد من البيع والشراء، ونحو ذلك.… (لم تبن لهذا) أي: لنشدان الضالة ونحوه، بل لذكر الله تعالى وتلاوة القرآن والوعظ، حتى كره مالك البحث العلمي، وجوزه أبو حنيفة وغيره ; لأنه مما يحتاج الناس إليه لأن المسجد مجمعهم
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 1/365، رشیدیہ )
تحت قولہ ( و یعلم بہ جیرانہ ) فی الشرنبلالیۃ عن الکمال لا بأس باعلام الناس بموتہ لان فیہ تکثیر المصلین علیہ و المستغفرین لہ و تحریضا للناس علی الطھارۃ
وکذافی غنیة المستملی : ( 611، رشیدیہ )
وکذا فی شرح النووی علی مسلم: ( 1/253، رحمانیہ )
وکذافی عون المعبود: ( 2/84، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی بذل المجھود: ( 3/213، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: ( 3/85، فاروقیہ)
وکذا فی الشامیة: ( 2/239، ایچ ایم سعید)
وکذافی المحیط البرھانی: ( 3/103، دار احیاء تراث )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :179

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔