سوال

دریافت یہ کرنا تھا ، جیسا کہ آج کل سردیوں میں آدمی بالٹی میں پانی گرم کرتا ہے پھر یہ دیکھنے کے لئے کی پانی گرم ہوا یا نہیں ہاتھ ڈالتا ہے ، تو کیا پھر اس پانی سے وضو یا غسل کرنا درست ہے ، اس یہ پانی مستعمل تو نہیں ہوتا ؟ جنبی یا غیر جننی کا فرق ہے یا نہیں ۔ براہ مہربانی تفصیل سے تحریر فرما دیویں ۔ جزاک اللہ خیرا) بعض مرتبہ پانی نہانے کے دوران اسی بالٹی میں گرتا ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مذکورہ بالا صورت میں بالٹی میں ہاتھ دالنے والا چاہے جنبی ہو یا غیرجنبی ، اگر اس کے ہاتھ پاک ہوں ، تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا درست ہے اور پانی مستعمل نہیں ہو گا ، البتہ یہ عمل ناپسندیدہ ہے ، ایسا کرنے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔ 2) غسل کےدوران بالٹی میں گرنے والی پانی کی چھینٹوں سے بچنا مشکل ہوتا ہے ، لہذا اتنی مقدار میں گرنے والا پانی ” وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج “( تم کو دین کے سلسلے میں تنگی کے اندر نہیں ڈالا گیا ) کی رو سے معاف ہے ۔

لما الصحیح لمسلم : ( 169 / 1 ، رحمانیہ )
“عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا استيقظ أحدكم من نومه، فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها ثلاثا، فإنه لا يدري أين باتت يده».”
و فیہ ایضا فی شرح النووی علی الصحیح لمسلم 0
“المقصودۃ ھنا و ھی النھی عن غمس الید فی الاناء قبل غسلھا و ھذا مجمع علیہ لکن الجماھیر من العلماء المتقدمین المتآخرین علی انہ نہی تنزیہ لا تحریم فلو خالف و غمس لم یفسد الماء و لم یاثم الغامس .”
و فی البحر الرائق : ( 38 / 1 ، رشیدیہ )
“یکرہ ادخال الید فی الاناء قبل الغسل للحدیث و ھی کراھۃ تنزیہ ، لان النھی فیہ مصروف عن التحریم .”
و کذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 27 / 1 ، الطارق )
“و لا یصیر الماء مستعملا بمجرد ملاقاتہ للعضو المغسول ، حتی ینفصل عنہ ، و ینزل الی موضع یستقر فیہ ، او الی الارض ، فلو سقط الماء اثنا ء الاغتسال من عضو علی عضو آخر من اعضاء المغتسل ، فاجراہ علیہ و غسلہ بہ ، صح غسلہ .”
و کذا فی فتح القدیر مع العنایة : ( 1/ 17 , 18 ، رشیدیہ )
و کذا فی الکفایة مع فتح القدیر : ( 8 / 1 ، رشیدیہ )
و کذا فی البحر الرائق : ( 37 / 1 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (66 ، قدیمی )
و کذا فی بذل المجھود فی حل ابی داود : ( 206 / 1 ، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 211 / 1 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : (274 , 275 / 1 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/05/1440،2019/01/20
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:96

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔