سوال

اگر ایک آدمی نے ظہر کے فرضوں کے بعد دو رکعات سنتیں پڑھنا شروع کیں، تشہد کے بعد تیسری رکعت شروع کر دی بعد میں یاد آیا کہ میں تو دو رکعت سنت ادا کر رہا تھا، تو کیا واپس بیٹھ جائے یا چار رکعت مکمل کرے، اگر چار رکعت مکمل کر لے تو چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، جبکہ اس نے فرضوں سے پہلے چار رکعات سنتیں ادانہ کی ہوں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں وہ آدمی اگر واپس بیٹھ کر سجدہ سہو کر لے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر چار رکعات مکمل کر لے تو یہ ظہر سے پہلے کی چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، کیونکہ سنت اور نفل میں مطلق نماز کی نیت کر لینا کافی ہے رکعات کی تعیین ضروری نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/297، فاروقیہ )
“و إذا شرع فی التطوع و أراد أن یصلی الرکعتین، ثم بدا لہ أن یصلی أربعا بتسلیمۃ واحدۃ، جاز لہ ذلک.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/282، الطارق )
و ان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا، بعد ان قعد القعود الأخیر، عاد للجلوس عند ما یتذکر، ما لم یسجد للرکعۃ الزائدۃ،… و یسجد للسہو فی الصورتین؛ لتأخیر السلام فی الصورۃ الأولی
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار : ( 2/117، 116، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 11/66، رشیدیہ )
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 224، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 1/484، رشیدیہ )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/78، قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :65

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔