الجواب حامداً ومصلیاً
سوال میں ذکر کردہ جواب میں دولہا کے وکیل اور دلہن کے ولی اور وکیل کی اپائنٹمنٹ کے لیے دو گواہان کی موجودگی کو ضروری قرار دینا درست نہیں، کیونکہ مؤکل کی طرف سے وکیل کی اپائنٹمنٹ کے لیے گواہوں کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ اگر ملکی قانون میں لازم ہو تو اس کا ہمیں علم نہیں کسی محترم وکیل صاحب سے پوچھ لینا چاہیے۔
لما فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ
وفی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود و انمایکون الشھود شرطا فی حال مخاطبۃ الوکیل المرأۃ
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة: ( 4/210، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: ( 10/199، دار أحیاء تراث )
واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :63