سوال

اگر پرانے برتن دکان دار کو بیچے پھر اس کے ثمن پر قبضہ کیے بغیر اس ثمن سے نئے برتن خرید لیے ،تو یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟جبکہ بیع اول میں بیع ثانی کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں یہ بیع جائز ہے۔

لما فی”الھدایۃ”:(3/80،رحمانیۃ)
“والتصرف فی الثمن قبل القبض جائز لقیام المطلق وھوالملک ولیس فیہ غرر الا نفساخ با لھلاک لعدم تعیینھا بالتعیین بخلاف المبیع۔”
وفی”الھندیۃ”:(3/13،رشیدیۃ)
“والتصرف فی الاثمان قبل القبض والدیون استبدالا سوی الصرف والسلم جائز عندنا۔”
وکذافی”ردالمحتار علی الدرالمختار”(7/392،رشیدیۃ)
وکذافی”المبسوط”(14/2،دارالمعرفۃ)
وکذافی”اعلاءالسنن”(14/255،ادارۃ القرآن)
وکذافی”فتح القدیر”(6/479،رشیدیۃ)
وکذافی”بدائع الصنائع”(4/484،483،رشیدیۃ)
وکذافی”مجمع الانھر”(3/115،المنار)
وکذافی”فقہ الحنفی”(4/204،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

29/4/1440،2019/1/6
جلدنمبر :17 فتوی نمبر 75

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔