سوال

ہم جس کمپنی سے زرعی ادویات لیتے ہیں انہوں نے ایک سکیم نکالی ہے جس میں انہوں نے تیس ہزار مالیت کا ایک کوپن رکھا ہے ،جوشخص تیس ہزار دے کر وہ کوپن خریدے گا اس کو چند منتخب ادویات میں سے کوئی ایک دوائی جو وہ چاہے گا فری دیں گے ،اس کے علاوہ کوپن کی ایک مقررہ تاریخ پر قرعہ اندازی ہو گی ،جس میں مختلف قسم کے انعامات نکلیں گے جس کی تفصیل منسلکہ ورق پر موجود ہے ،جن کوپن ہولڈرز کا کوئی انعام نہیں نکلے گا ان کو بھی کمپنی والے کوئی نہ کوئی انعام ضرور دیں گے۔آیا اس طرح کی انعامی سکیم میں حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

خریدار اگر کوپن خرید کر سکیم میں حصہ لیتا ہے اوراسے ان ادویات کی ضرورت ہے ،بیچنے کے لیے یا اپنے استعمال کے لیے اور کوپن میں جو ادویات دی جاتی ہیں، انعام کی وجہ سے ادویات کی قیمت میں اضافہ بھی نہیں کیا جاتااور خریدار اپنی ضرورت کی وجہ سے ادویات خریدتا ہے تو اس سکیم میں حصہ لینا جائز ہے اور اگر صرف انعام کی غرض سے کوپن خریدتا ہے ،ادویات کی ضرورت نہیں ہے تو سکیم میں حصہ لینا درست نہیں،اس میں جوے کا شبہ ہے ۔اگر انعام کی وجہ سے ادویات کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو سکیم میں حصہ لینا حرام ہے یہ قمار (جوے ) میں داخل ہے۔نوٹ:واضح رہے کہ اس طرح کی سکیمیں بعض کمپنیاںسود اور جوے میں الجھانے کے لیے نکالتی ہیں ، لہذا حتی الوسع ان سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

لمافی” بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ “:(2/159،معارف القرآن)
“الشرط الاول : ان یقع شراءالبضاعۃ بثمن مثلہ ،ولا یزاد فی ثمن البضاعۃ من اجل احتمال الحصول علی الجوائز وھذا لانہ ان زاد البائع علی ثمن المثل ،فالمقدار الزائد انما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائز ۃ المحتملۃ فصارت الجائز ۃ بمقابل مالی فلم تبق تبرعا وان ھذا المقابل المالی انما وقع بہ المخاطرۃ فصارت عملیۃ قمارا۔۔۔۔۔ان یکون المشتری یقصد شراءالمنتج للانتفاع بہ ، ولا یشتریہ لمجرد ما یتوقع من الحصول علی الجائزۃ ، لانہ ان لم یکن یقصد شراءالمنتج ،فان ما یبذلہ من الثمن ،انما یبذلہ من اجل الجائزۃ فکان فیہ شبھۃ المخاطرۃ ،فلا یخلو من شبہ القمار۔”
وکذافی القرآن المجید:(سورۃ المائدۃ :90)
وکذافی تفسیر المظہری:(1/266،رشیدیۃ)
وکذافی درالمختار مع رد المحتار:(7/255،256،رشیدیۃ)
وکذافی احکام القرآن :(2/653،قدیمی )
وکذافی جامع البیان:(2/208،دارالمعرفۃ)
وکذافی صفوۃالتفاسیر :(1/366،دار احیاء)
وکذافی الھدایۃ:(3/55،رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1440،2019/1/9
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 81

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔