سوال

اگر کسی شخص نے وفات سے پہلے اپنی قضاء نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی،قضاء نمازیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ ترکہ کے ثلث سے زیادہ سے پوری ہو ں گی،کیا اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟ شریعت مطہرہ اس بارے میں کیا راہنمائی فرماتی ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگر وصیت ترکہ کی تہائی سے پوری نہ ہو تو جو بالغ ورثہ خوش دلی سے اجازت دیں(نا بالغ ورثہ کی اجازت کا اعتبار نہیں ہو گا) ان کے حصے سے باقی وصیت پوری کی جائے گی۔

لما فی رد المحتار:(10/358رشیدیة)
“إذا أجاز بعض الورثۃ جاز علیہ بقدر حصتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.”
وفی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیة)
رجل مات وعلیہ صلوات کثیرۃ فأوصی أن یطعموا عنہ بصلاتہ اتفق المشایخ علی أنّہ یجب تنفیذ ہذہ الوصیۃ من ثلث مالہ
وکذا فی الشامیة:(3/467،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(1/125،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة:(1/114،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ:(1/441،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:(2/160،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/367،المنار)
وکذا فی مجمع الأنہر:(1/367،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/367،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1152،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/08/1443/2022/03/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:75

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔