سوال

زید نے 10 جون کو آم کے باغ کا پھل پانچ لاکھ میں بیچا ،مشتری نے 10 جو ن ہی کو تین لاکھ روپے دے دیے اور تین لاکھ کا پھل بھی اس نے توڑ لیا۔اس نے کہا کہ بقیہ دو لاکھ میں جب پھل توڑوں گا اس وقت دوں گا،پھل توڑنے سے پہلے۔ اس نے ابھی تک نہ پیسے دیے ہیں اور نہ ہی پھل توڑا ہے۔اب 10 جولائی کو زید کے سالانہ زکوۃ کے حساب کی ترتیب ہے،اب کیا زید ان دو لاکھ روپے کی بھی زکوۃ نکالے گا جو ابھی تک مشتری نے ادا نہیں کیے اور نہ پھل توڑا ہے؟جبکہ بیع ہو چکی ہے،عشر تو سارے باغ کا ادا کر دیا ہے،براہِ کرم! زکوۃ کے بارے میں راہنمائی فرما دیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں ان دو لاکھ روپے پر بھی زکوۃ فرض ہے،چاہے ابھی ادا کرے یا وصول ہونے کے بعد۔

لما فی رد المحتار:(3/281،رشیدیة)
قولہ(وحال الحول) أی:ولو قبل قبضہ فی القویّ والمتوسط وبعدہ فی الضعیف.قولہ(عند قبض أربعین درہماً) قال فی المحیط:لأن الزکاۃ لا یجب فی الکسور من النصاب الثانی عندہ ما لم یبلغ أربعین للحرج فکذالک لا یجب الأداء ما لم یبلغ أربعین للحرج
وفی الہندیة:(1/175،رشیدیة)
وأما سائر الدیون المقرّ بہا فہی علی ثلث مراتب عند أبی حنیفۃ۔۔۔۔۔۔۔وقویّ:وہو ما یجب بدلاً عن سلع التجارۃ إذا قبض أربعین زکّی لما مضی
وکذا فی الشامیة:(3/281،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/281،رشیدیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/289،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(23/240،علوم اسلامیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1830،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1831،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/244،ادارة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/90،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/08/1443/2022/03/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:74

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔