الجواب حامداً ومصلیاً
سائل سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ قر ض دینے والا صرف نفع میں تو شریک ہونا چاہتا ہے، مگر نقصان میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔لہذا یہ خالصتا سود ی معاملہ ہےجوکہ شرعا ناجائز اور حرام ہے۔
لما فی بدائع الصنائع للکاسانی:(6/518،رشیدیہ)
لما روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ نھی عن قرض جر نفعاولان الزیاةالمشروطۃ تشبہ الربا لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،رشیدیہ)
” القرض الذی جر منفعه: قال الحنفیۃ فی الراجح عندھم کل قرض جر نفعا حرام اذا کان مشروطا. “
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1444/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:159