سوال

اگر کوئی حادثہ گاڑی چلانے والے کی غلطی سے ہوا اس میں کچھ لوگ جان سے چلے جائیں تو ہم کہتے ہیں یہ حادثہ ڈرائیور کی غلطی سے ہواہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے مرنے والوں کی موت اس طرح لکھی تھی پھر وہ ڈرائیور کیسے قصوروارہوا؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

تقدیر میں لکھے ہوئے کی وجہ سے انسان کامجبور اور بے اختیار ہونا لازم نہیں آتا،بلکہ ہرانسان اپنے ارادے اور اختیار سے کام کرتا ہے،اسی لئے کسی انسان کو اچھےکام پر انعام دیاجاتاہےاوربرے کام کی سزادی جاتی ہے۔اگر تقدیر کی وجہ سے انسان کو معاف کردیا جائے تو دنیا سے امن اور انصاف ختم ہوجائےگا۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/543،الطارق)
فقد أثبت لھم ایمانا وعملا صالحا جزاھم بھما الجنۃ،فاللّٰہ تعالیٰ ھو الموجد والخالق للفعل ولیس للعبدإلّا کسبہ وتحصیلہ وبہ یثاب أویعاقب……………وعلی الصفحۃ الآتیۃ وقد تحمل علی علم اللّٰہ أزلا للذی سیکون من العبد خیرا کان أو شرّا،کقولہ علیہ وآلہ الصلاۃ والسلام:(السعید من سعد فی بطن أمہ)والعلم لیس فیہ معنی الإجبار
وکذافی حجة اللّٰہ البالغة:(1/57،قدیمی)
وقول الشرع شرط المؤاخذۃ علی الأفعال أن یفعلھا بالاختیار بمنزلۃ قول الطبیب شرط الضرربالسم والانتفاع بالتریاق أن یدخلافی البلغوم وینزل فی الجوف
وکذافی تفسیرالمظہری:(6/260،رشیدیہ)
وکذافی شرح العقیدةالطحاویة:(437،المکتب الاسلامی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11،8،1443/2022،3،15
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:189

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔