الجواب حامداومصلیا
کسی یقینی حرام کھانے سے پہلے یاکسی یقینی حرام فعل کوکرتے وقت،اگراس کام کو حلال سمجھتےہوئے یااللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیرکے لئے،بسم اللہ پڑھنا تو کفر ہے،ورنہ بے ساختہ اور غیر اختیاری طور پر بسم اللہ پڑھنے سے کافر تو نہیں ہو گا،لیکن گناہ گار ضرور ہوگا۔
لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(16/499،فاروقیہ)
وفی الصیرفیة:سئل ایضا عمن غصب طعاما فقال عند أکلہ:بسم اللہ لایکفر ولو ذکر عند شرب الخمر؟ قال :إن کان علی وجہ الاستخاف یکفر وکذا عند الزنا
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/380،رشیدیہ)
وقال العلامة عالم بن العلاء ومن أکل طعاما حراما وقال عند الأکل :بسم اللہ فقد حکی الإمام المعروف بالمستملی عن مشایخہ أنہ یکفر لاستخفافہ اسم اللہ ولو قال عند الفراغ عن الأکل:الحمد للہ فقد قال بعض المشایخ :إنہ لایکفر
وکذافی الخانیة:(6/330،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/318،الطارق)
وکذافی الھندیة:(9/337،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(9/561،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(1/38،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26،7،1443/2022،2،28
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:181