الجواب حامداومصلیا
کمپنی کااس طرح متعین رقم کی صورت میں نفع دینا جائز نہیں ہے،بلکہ درست طریقہ یہ ہے کہ کل نفع میں سے متعین فیصد کے اعتبار سے نفع دیا جائے ۔مثلاکل نفع کا چالیس فیصد دیا جائے گا۔
لمافی البحرالرائق:(5/296،رشیدیہ)
وتفسدأن شرط لأحدھما دراھم مسماۃ من الربح لانہ شرط یوجب انقطاع حق الشرکۃ فعساہ لایخرج إلاالقدر المسمی لأحدھما
وکذافی بدائع الصنائع:(5/77،رشیدیہ)
ومنھا:أن یکون الربح جزء شائعا فی الجملۃ لامعینا،فإن عینا عشرۃأو مائۃأونحو ذلک کانت الشرکۃ فاسدۃ،لأن العقد یقتضی تحقق الشرکۃ فی الربح والتعین یقطع الشرکۃ لجوازان لایحصل من الربح الاالقدرالمعین لاحدھما فلا یتحقق الشرکۃ فی الربح
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(385،البشری)
وکذافی مجمع الانھر:(2/544،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3940،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(3/161،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(4/287،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(15/395،فاروقیہ)
وکذافی الدر:(8/501،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
13،5،1443/2021،12،18
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:168