الجواب حامداومصلیا
حلالہ ہو جائے گااور یہ آدمی میاں بیوی کے درمیان اصلاح کی نیت کی وجہ سے عند اللہ مأجور ہوگا۔
لمافی الھندیة:(1/474،رشیدیہ)
رجل تزوج امرأۃ ومن نیتہ التحلیل ولم یشترطاذلک تحل للاول بھذا ولایکرہ ولیست النیۃ بشیٔ ولو شرطا یکرہ وتحل
وکذافی بدائع الصنائع:(3/296،رشیدیہ)
فإن تزوجت بزوج آخر ومن نیتھا التحلیل،فإن لم یشترطا ذلک بالقول وإنما نویا ودخل بھا علی ھذہ النیۃ حلت للأول فی قولہم جمیعا،لأن مجرد النیۃ فی المعاملات غیر معتبر فوقع النکاح صحیحا لاستجماع شرائط الصحۃ فتحل للأول
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/153،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(4/97،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/100،حرمین شریفین)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/121،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/91،المنار)
وکذافی فتح القدیر:(4/161،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:164