سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی اور لوگوں کو گواہ بنایا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی پھر کچھ عرصہ بعد اپنی بیو ی کو واپس گھر لے آیااوراب خاوند انکار کرے کہ میں نے طلاق نہیں دی۔اب اگر کوئی میاں بیوی کو حرام سے بچانے کےلئے علیٰحدہ علیٰحدہ ان کو ذہنی طور پر تیا رکرے اور حلالہ کرواے تو یہ حلالہ ہو جائے گا یانہیں،نیز یہ آدمی عنداللہ ماجور ہوگا یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

حلالہ ہو جائے گااور یہ آدمی میاں بیوی کے درمیان اصلاح کی نیت کی وجہ سے عند اللہ مأجور ہوگا۔

لمافی الھندیة:(1/474،رشیدیہ)
رجل تزوج امرأۃ ومن نیتہ التحلیل ولم یشترطاذلک تحل للاول بھذا ولایکرہ ولیست النیۃ بشیٔ ولو شرطا یکرہ وتحل
وکذافی بدائع الصنائع:(3/296،رشیدیہ)
فإن تزوجت بزوج آخر ومن نیتھا التحلیل،فإن لم یشترطا ذلک بالقول وإنما نویا ودخل بھا علی ھذہ النیۃ حلت للأول فی قولہم جمیعا،لأن مجرد النیۃ فی المعاملات غیر معتبر فوقع النکاح صحیحا لاستجماع شرائط الصحۃ فتحل للأول
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/153،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(4/97،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/100،حرمین شریفین)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/121،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/91،المنار)
وکذافی فتح القدیر:(4/161،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12،7،1443/2022،2،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:164

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔