سوال

ایک شخص برفانی علاقے میں جاتاہےاور باریک برف سے وضو کرتا ہےاسی کو ہاتھ پر ملتا ہے اسی کو منہ میں ڈال کر کلی کرتا ہے اوراپنے منہ پر ملتا ہےتوکیا اس شخص کا وضو ہو گیااور اس وضو سے نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اس شخص کا وضو نہیں ہو گاکیونکہ وضو کے لئے اعضاء پر پانی کا بہنا ضروری ہے،جوکہ صورت میں نہیں پایا جارہا۔

لمافی بدائع الصنائع:(1/65،رشیدیہ)
وعلی ھذا قالوا: لو توضأ بالثلج ولم یقطر منہ شیٔ لایجوز ولو قطرقطرتان أوثلاث جاز لوجود الإسالۃو سٔل الفقیہ أبوجعفر الھندوانی عن التوضؤ بالثلج؟فقال:ذلک مسح ولیس بغسل،فإن عالجہ حتی یسیل یجوز وعن خلف بن أیوب انہ قال ینبغی لمتوضی فی الشتاء أن یبل أعضاء ہ بالماء شبہ الدھن،ثم یسیل الماء علیھا لأن الماء یتجافی عن الأعضاء فی الشتاء
وکذافی الشامیة:(1/217،رشیدیہ)
أی إسالۃ الماء)قال فی البحرواختلف فی معناہ الشرعی فقال أبو حنیفۃ ومحمد:وھو الإسالۃ مع التقاطر ولو قطرۃ حتی لو لم یسل الماء بان استعملہ استعمال الدھن لم یجز فی ظاھر الروایۃ وکذا لو توضأ بالثلج ولم یقطر منہ شیٔ لم یجز
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/70،الطارق)
وکذافی مجمع الانھر:(1/20،المنار)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(25،البشری)
وکذافی الھدایة:(1/30،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،7،1443/2022،2،19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:186

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔