الجواب حامدا ومصلیا
غصے کی حالت میں بھی نذر منعقد ہو جائے گی اور”لَانَذرَ فِی الغَضَبِ“کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نذر جو غصہ کی حالت میں کسی گناہ کی مان لی گئی ہواس کو پورا نہیں کرنا چاہیے،بلکہ کفارہ دے دینا چاہیے۔
لمافی بذل المجھود:(14/168،قدیمی کتب خانہ)
عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:لانذرفی معصیۃ)ولیس معناہ أنہ لاینعقد بل معناہ أنہ لیس فیہ وفاءویدل علی ذلک قولہ(کفارتہ کفارۃیمین)قال فی فتح الودود لیس معناہ أنہ لاینعقد اصلاإذلایناسب ذلک قولہ:وکفارتہ إلخ بل معناہ لیس فیہ وفاء
وکذافی المصنف:(8/434،المکتب الاسلامی)
عن یحیی بن أبی کثیر عن رجل من بنی حنیفۃ قال:إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لانذر فی غضب ولافی معصیۃ اللہ،وکفارتہ کفارۃ یمین
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،ادارةالقراٰن)
وکذافی الصحیح البخاری:(2/991،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن ابوداؤد:(2/112،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(7/21،دار الکتب العلمیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2567،رشیدیہ)
وکذافی تحفةالاحوذی:(5/106،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/605،المکتبہ التجاریہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
3،5،1443/2021،12،8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:11