سوال

اگر کوئی شخص قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول جائے ،تووہ گناہ گارہوتاہے اور اس پر سخت وعیدیں ہیں ،دریافت یہ کرنا ہے کہ اس بھولنے سے کیا مراد ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سستی اور غفلت کی وجہ سے قرآن پاک کو بھلا دینا ایک عظیم الشان نعمت کی نا قدری اور ناشکری ہے ،جو یقیناً قابل افسوس ومذمت ہے ،لیکن وعید کا مستحق اس وقت ہو گا جب آدمی اوپر دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکتا ہو ۔

لما فی سسنن ابی داؤد:(1/78 ،ر:حمانیۃ )
” عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ۔۔۔۔وعرضت علی ذنوب امتی فلم ار ذنبا اعظم من سورۃ من القرآن او آیۃ اوتیھا رجل ثم نسیھا. “
وفی بذل الجہود: (3 /203 ،رحمانیۃ )
” والنسیان عندنا ان لا یقدر ان یقر أبالنظر،کذا فی شرعۃ الاسلام. “
وفی الھندیۃ: (5 /317 ،رشیدیۃ )
“قراءۃالقرآن فی المصحف اولی من القراءۃ عن ظھر القلب اذا حفظ الانسان القرآن ثم نسیہ فانہ یاثم وتفسیر النسیان ان لا یمکنہ القراءۃ من المصحف۔”
وکذا فی موسوعۃ الفقہیۃ : ( 40/ 167 ، علوم اسلامیۃ)
وکذافی فتح الباری :(9/105،قدیمی)
وکذافی فیض القدیر:(4/414،دارالکتب)
وکذافی عون المعبود:(2/79،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر: 17 فتوی نمبر :165

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔