سوال

ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بیوی کے ساتھ بوس کنار کیا اور اس وقت محسوس ہوا کہ مذی نکلی ہے،اس کے کافی دیر بعد جب نمازکا وقت ہو اتو وضو کرنے لگا تو یاد آیا کہ شلوار کسی جگہ سے ناپاک ہے ،مگر یہ معلوم نہیں کہ کس جگہ سے ناپاک ہے ،کیونکہ اس وقت شلوار خشک ہو چکی تھی ،پوچھنا یہ ہے کہ نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرنا ہوں گے یا اسی طرح پڑھ سکتے ہیں ؟(2)اگر یہ جانتے ہوئے کہ شلوار کسی جگہ سے ناپاک ہے مگر وہ بقدر درہم ہے جوکہ معاف ہے ،کیا اسی حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟اگر نہیں پڑھ سکتے مگر پھر بھی پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟(3)اور اگر یہ سب نماز پڑھ لینے کے بعد یا د آیا تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)بہتر یہ ہے کہ کپڑے بدل لیے جائیں یا جہاں مذی لگنے کا گمان ہے وہ جگہ دھو لی جائے ،اگر اس بات کا غالب گمان ہو کہ مذی ایک درہم (ایک روپے والے بڑے سکے )سے زیادہ لگی ہے ،تو پھر کپڑے بدلنا یا دھونا ضروری ہے ۔
(2)نماز مکروہ ہو گی۔

(3)نماز پڑھ لینے کے بعد یاد آیا تو اگر نجاست ایک درہم سے زیادہ ہے تو نماز نہیں ہوئی ،ورنہ ہو گئی۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/43،رشیدیۃ)
“اذا تنجس طرفا من اطراف الثوب و نسیہ فغسل طرفا من اطراف الثوب من غیر تحر حکم بطھارۃ الثوب ھو المختار ۔فلو صلی مع ھذا الثوب صلوات ثم ظھر ان النجاسۃ فی طرف آخر یجب علیہ اعادۃ صلوات التی صلی مع ھذاالثوب ۔”
وفی العنایۃ مع فتح القدیر :(1/203،رشیدیۃ )
“اذا کانت قدر الدرھم (جازت الصلاۃ معہ )وقولہ ومادونہ مستغنی عنہ (وان زاد لم تجز ۔۔الخ)۔”
وکذا فی الھندیۃ:(43 /1،رشیدیۃ) وکذا فی المحیط البرھانی:(1 /371،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)1/428،فاروقیۃ) وکذافی بدائع الصنائع:(1 /193، رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1 /232و236، رشیدیۃ) وکذا فی فتح القدیر:(1 /192،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(1 /571،رشیدیۃ) وکذافی تبیین الحقائق:(1 /73،امدادیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:31

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔