سوال

اگر کوئی شخص مرتے وقت اپنی قضاء نمازوں کے فدیہ کی وصیت کر جائے، جبکہ وصیت بھی ایک تہائی مال سے کم ہو تو کیا وارثوں پر اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! ضروری ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(265،بشری)
من فاتتہ صلوات ولم یقضھا حتی مات واوصی بالفدیۃ عن الصلوات الفائتۃ یعطی من ثلث مالہ لکل صلاۃ نصف صاع من بر اوصاع من تمر اوشعیر او قیمتہ۔
وفی الھندیة:(1/125،رشیدیہ)
اذا مات الرجل وعلیہ صلوات فائتۃ فاوصی بان یعطی کفارۃ صلواتہ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر و للوتر نصف صاع ولصوم یوم نصف صاع من ثلث مالہ
وفی الخانیة علی ہامش الھندیة :(1/114،رشیدیہ)
“رجل مات وعلیہ صلوات واوصی بان یطعموا عنہ لصلواتہ اتفقوا المشایخ علی انہ یجب تنفیذ ھذہ الوصیة من ثلث مالہ۔”
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/498،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/368،منار)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/464،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(1/492،دار احیاء التراث)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،8،1443/2022،3،25
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:63

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔