سوال

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو اپنا وکیل بنائے تو کیا مؤکل خود بھی اپنا وہ کام کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جی کر سکتا ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/4116،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔کأن یؤکل انسان غیرہ ببیع شیئ ثم یبیعہ المؤکل فتنتہی الوکالۃ بالاتفاق لأن العقد یصبح حینئذ غیر ذی موضوع فینعزل الوکیل وإن لم یعلم بالعزل
وفی بدائع الصنائع:(5/45،رشیدیة)
ومنہا أن یتصرف المؤکل بنفسہ فیما وکل بہ قبل تصرف الوکیل نحو ما إذا وکلہ ببیع عبدہ فباعہ المؤکل۔۔۔۔۔۔۔لأن الوکیل عجز عن التصرف لزوال ملک المؤکل فینتہی حکم الوکالۃ
وکذا فی فتح القدیر:(8/154،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقیة:(45/114،علوم اسلامیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/289،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(7/324،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/447،الطارق)
وکذا فی الہدایة:(3/290،البشری)
وکذا فی التاتارخانیة:(12/413،فاروقیة)
وکذا فی الدر المختار:(8/325،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:179

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔