سوال

ایک حافظ قرآن نماز تراویح میں قرآن پاک آہستہ پڑھتے ہیں(ائمہ حرمین کی طرز پر بلا تکلف) جبکہ اس کے مقتدی کہتے ہیں کہ قرآن جلدی پڑھا کریں،اس طرح وقت زیادہ لگتا ہے اور ہم سارے دن کے تھکے ہوئے ہوتے ہیں؛سوال یہ ہے کہ امام صاحب کس حد تک مقتدیوں کی بات ماننے کا پابند ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

مقتدیوں کی رعایت رکھتے ہوئے حافظ صاحب اس قدر تیز پڑھ سکتے ہیں جس میں الفاظ سمجھ آئیں اور تجوید کا بھی کسی حد تک لحاظ رہے پھر بھی مقتدی راضی نہ ہوں تو بہتر یہ ہےچھوٹی سورتوں سے تراویح پڑھائے،پورے قرآن کا ختم نہ کرے۔

لما فی الشامیة:(2/601،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔فقد تتغیر الاحکام لاختلاف الزمان فی کثیر من المسائل بحسب المصالح ولذا قال فی البحر:فالحاصل أنّ المصحح فی المذہب أن الختم سنۃ لکن لا یلزم منہ عدم ترکہ إذا لزم منہ تنفیر القوم وتعطیل کثیر من المساجد خصوصاً فی زماننا فالظاہر اختیار الأخف علی القوم
وفی بدائع الصنائع:(1/646،رشیدیة)
وأما فی زماننا:فالأفضل أن یقرأ الإمام علی حسب حال القوم من الرغبۃ والکسل فیقرأ قدر ما لا یوجب تنفیر القوم عن الجماعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔والأفضل تعدیل القراءۃ فی الترویحات کلہا۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی القرآن الکریم:(المزمل:4)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/701،قدیمی)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن:(19/37،مؤسسہ التاریخ العربی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/699،دار الکتب)
وکذا فی الشامیة:(2/601،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/253،ادارة القرآن)
وکذا فی الہندیة:(1/117،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/325،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:178

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔