سوال

ایک آدمی انگلینڈ میں رہتا ہےاور اس کے خاندان والے پاکستان میں رہتے ہیں،یہ شخص ان کا صدقہ فطر ادا کرنا چاہتا ہےتو کس جگہ کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرے گا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت میں یہ شخص اپنا صدقہ فطرتو انگلینڈ کے اعتبار سے ادا کرے گااور خاندان والوں کا پاکستان کے اعتبار سے جتنا صدقہ فطر بنتاہے،ادا کرے گا۔

لما فی بدائع الصنائع : ( 2/208  ،رشیدیہ )
واما مکان الادآء وھو الموضع الذی یستحب فیہ اخراج الفطرۃ،روی عن محمد:انہ یؤدی زکاۃ المال حیث المال ویؤدی صدقۃ الفطرعن نفسہ وعبیدہ حیث ھو،وھو قول ابی یوسف الاول ثم رجع وقال یؤدی صدقۃ الفطر عن نفسہ حیث ھو وعن عبیدۃ: حیث ھم،حکی الحاکم رجوعہ،وذکر القاضی فی شرحہ مختصر الطحاوی قول ابی حنیفۃ مع قول ابی یوسف
 وفی المحیط البرھانی( 3/  386،دار احیاء تراث العربی )
 ویؤدی صدقۃ الفطرعن نفسہ وعبیدہ حیث ھو،وفی زکاۃ المال حیث المال وھذا قول محمد وھو قول ابی یوسف الاول ثم رجع وقال یؤدی عن العبد حیث العبد
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 3/462  ،فاروقیہ )
وکذا فی الفتاوی الھندیة : ( 1/190  ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

28/8/1444/21/3/2023

جلد نمبر :29 فتوی نمبر :140

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔