الجواب حامداً ومصلیاً
خاوند نے بیوی کو یہ جملہ: ” آپ عدت میں ہو “ویسے ہی دھمکانے وغیرہ کے لیے کہا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی اور اگر طلاق کی نیت سے کہاتو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی،اب عدت کے دوران اگر خاوند چاہے تو رجوع کر سکتاہے،ورنہ عدت کے بعدباہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہےاور اس صورت میں خاوند کو صرف ایک طلاق کا مزید اختیار باقی رہے گا۔
لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار ورد المحتار : ( 4/522 ،رشیدیہ )
وتقع رجعیۃ بقولہ اعتدی واستبرئی رحمک وانت واحدۃ) وان نوی اکثر ،وفی الشامیۃ :(وتقع رجعیۃ) ای: وان نوی البائن قولہ :(بقولہ اعتدی) لانہ من باب الاضمار ای: طلقتک فاعتدی او اعتدی لانی طلقتک
وفی الفتاوی الھندیة (1 /375 ،رشیدیہ )
تطلق واحدۃرجعیۃ فی اعتدی واستبرئی رحمک وانت واحدۃفلا یقع فی ھذہ الثلاثۃ الا واحدۃ رجعیۃ ولو نوی ثلاثاًاو ثنتین
وکذافی فتاوی قاضیخان: ( 1/ 469 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (4 /426 ،دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی الفقہ الحنفی : ( 2/171 ،طارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : ( 4/472 ،طارق )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/8/1444/12/3/2023
جلد نمبر :29 فتوی نمبر :95