سوال

ایک آدمی نے دورانِ جھگڑا بیوی کے میکے کی موجودگی میں کہاکہ ”پھر میں اینوں طلاق دے دنّاں،تسیں اینوں گھر لے جاؤ،گل ختم ہوئی،تواڈا ساڈا کوئی رشتہ نہیں،اینوں لے جاؤ،تواڈی پہن اے نا،سانوں معاف کرو “ ان الفاظ کے استعمال میں میاں بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سائل نے واٹس ایپ پر جو وائس میسج کیا،جس میں جھگڑا کے دوران بولے گئے ان الفاظ کی ریکارڈنگ تھی،جو سوال میں مذکور ہیں۔ریکارڈنگ سے واضح ہو رہا ہےکہ خاوند طلاق نہیں دے رہا،بلکہ طلاق کا ارادہ ظاہر کر رہا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

لما فی الفتاوی الھندیة  : (1 /384 ،رشیدیہ )
لو قال بالعربیۃ ”اطلق “لایکون طلاقاً الا اذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقاً
 وفی الدر المختار(3 /319  ،سعید )
قولہ طلقی نفسک فقالت انا طالق او انا اطلق نفسی لم یقع لانہ وعد
وکذافی الشامیۛة : ( 3/ 319 ،سعید )
وکذا فی الجوھرة النیرة : (2 /189  ،قدیمی )
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیة : (1 /82  ،قدیمی )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/545  ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

26/8/1444/19/3/2023

جلد نمبر :29 فتوی نمبر :98

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔