سوال

ایک آدمی کے تین پلاٹ تھے،اس نے زندگی میں ایک پلاٹ سیل کیا،اس کی رقم سے اپنےایک بیٹے اوربیٹی کوالگ الگ مکان لے دیےاور ایک بیٹے کے نام ایک پلاٹ لگوادیااور اس مکان پر قبضہ بھی کروادیا(مع رجسٹری اور انتقال)اب اس صاحب کی وفات ہو گئی،اس کے وارثین میں تین بیٹےاور تین بیٹیاں ہیں،جائیداد کی تقسیم اب کس طرح ہو گی،کیا وہ بچے جن کو زندگی میں مکان قبضہ کروادیاوہ اب باقی دو پلاٹوں میں وارث ہونگے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی کو اپنی جائیداد میں سےکچھ دیتا ہےتو یہ تبرع واحسان شمار ہوتا ہےنہ کہ میراث،اس لیے کہ میراث کسی کے مرنے کے بعداس کے چھوڑے ہوئے مال کو کہتے ہیں اور یہ بھی واضح رہےکہ زندگی میں اپنی اولاد میں سےبعض کو دینا اور بعض کو بالکل نہ دینا یہ نامناسب اور غیر منصفانہ رویہ ہے۔صورتِ مسئولہ میں والد نے زندگی میں اپنی اولاد میں سے جس کوجو کچھ دیااور انہوں نے قبضہ بھی کر لیا تو یہ اس کے مالک بن گئےاور یہ محض تبرع،احسان اور ھبہ ہے،اب والد کی وفات کے بعدیہ باقی جائیداد میں بھی وارث اور حصہ دار ہونگے،البتہ اخلاق اور صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہے کہ مرحوم نے جن بچوں کو زندگی میں کچھ دے دیا تھا،اب وہ اپنے دوسرے بہن بہائیوں کا خیال کریں اور ان کو انکا حصہ لینے دیں،اس طرح کرنے سے ان کے مرحوم والد کی زیادتی کا کچھ مداوا ہو جائے گااور والد کے لیے بھی سہولت اور آسانی کا باعث ہو گاانشاءاللہ۔

لما فی الھندیة: (4 /392  ،رشیدیہ )
” ولو دفع الی ابنہ مالاًفتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃعلی التملیک کذا فی الملتقط،رجل دفع الی ابنہ فی صحتہ مالاً یتصرف فیہ ففعل وکثر ذلک فمات الاب ان اعطاہ ھبۃفلکل لہ وان دفع الیہ لان یعمل فیہ للاب فھو میراث
وفی الشامیة: (12 /553  ،رشیدیہ )
وتتم الھبۃ بالقبض الکامل )قدمنا قریبا عن ابن الکمال بیانہ،وھو ان قبض کل شیئ بما یناسبہ الخ قال فی الدرر: والقبض الکامل فی المنقول بما ینا سبہ وفی العقار بما ینا سبہ فقبض مفتاح الدار قبض لھا والقبض الکامل فیما یحتمل القسمۃبالقسمۃحتی یقع القبض علی الموھوب بالاصالۃمن غیر ان یکون بتبعیۃ قبض الکل،وفیما لا یحتمل القسمۃ بتبعیۃ الکل
وکذافی الھندیة : ( 4/377  ، رشیدیہ )                                              وکذا فی شرح المجلة : ( 3/362  ، رشیدیہ )
 وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 5/3996  ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

18/9/1444/9/4/2023

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :19

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔