سوال

ایک آدمی اپنی بیوی کو کہتا ہےاگرتم مجھ سے پوچھے بغیر گھر سے باہر گئی تو فارغ ہے،پھرخوداس کو اجازت دےدیتا ہے کہ تم اب میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر جاسکتی ہوتواب اس کے بغیراجازت باہر جانے سے طلاق واقع ہوگئی یانہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

نہیں واقع ہوگی۔

لمافی الھندیة:(1/440،رشیدیہ)
ولو قالت أنت طالق ان خرجت من ھذہ الدار حتی اذن لک أوآمرأوأرضی أوأعلم فجوبھاأنّ ذلک علی الاذن مرۃ واحدۃ حتی لو أذن لھا مرۃ فخرجت ثم عادت ثم خرجت بغیر اذن لایحنث
وکذافی المحیط البرھانی:(5/104،ادارة القراٰن)
إذاقال لإمرأتہ:إن خرجت إلاباذنی فأنت طالق،فاستأذنتہ فی الخروج إلی أبیھافأذن لھا،فخرجت إلی منزل أختھالاتطلّق من قبل أنہ قدأذن لھابالخروج،فلاأبالی ذھبت إلی الذی أمرھابہ أوإلی غیرہ،من قبل أنّ الیمین متعلق بالإذن فی الخروج
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/184،الطارق)
وکذافی شرح المجلة:(1/61،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/61،فاروقیہ)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(307،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،5،1443/2021،12،20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:83

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔