سوال

ایک شخص نے عشر کی رقم سے مسجد تعمیر کرلی ہے اس مسجد کا کیا حکم ہے؟اورعشر کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

عشر کی رقم سے مسجد تعمیرکرنا جائز نہیں ہے،لہذااس شخص کا عشرادا نہیں ہوادوبارہ ادا کرے۔

لمافی الھندیة:(1/188،رشیدیہ)
ولایجوز ان یبنی بالزکاۃ المسجد وکذا القناطروالسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھاروالحج والجھادوکل مالا تملیک فیہ
وفی المبسوط 2/202،دارالمعرفة
ولا یجزی فی الزکاۃ عتق رقبةوالحج ولاقضاءدین میت ولاتکفینہ ولا بناء مسجد والاصل فیہ ان الواجب فیہ فعل الایتاء فی جزء من المال ولایحصل الایتاء الا بالتملیک،فکل قربۃ خلت عن التملیک لاتجزی عن الزکاۃ (وبعداسطر)وکذلک بناء المسجد لیس فیہ التملیک من احد
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:)3/1958،رشیدیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(3/208،فاروقیہ)
وفی البحرالرائق:(2/424،رشیدیہ)
وفی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وفی الفتاوی الولوالجیة:(1/18،حرمین شریفین)
وفی فتح القدیر:(2/272،رشیدیہ)
وفی تنویر مع الدر:(3/341،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
24،3،1443/2021،10،30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:97

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔