سوال

ایک آدمی دعوت وتبلیغ یاجہاد کےلیےجاناچاہتاہےوالدین سےاجازت لیتاہےاوروہ اجازت بھی دےدیتےہیں ،مگریہ شخص جانتاہےکہ اس کےوالدین دل سےراضی نہیں،وہ چاہتےہیں کہ ان کا بیٹاان کی خدمت کرے،توایسی صورت میں نکلناافضل ہےیاوالدین کی خدمت کرناافضل ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

اگروالدین اسکی خدمت کےمحتاج ہیں یااس کےجانےکی وجہ سےان کوکوئی مشقت ہوتی ہوتواس شخص کاوالدین کی خدمت کرناافضل ہے۔

لمافی القرآن الکریم:(الاسراء:23)
“وقضیٰ ربک الاتعبدوا الاایاہ وبالوالدین احسانا ۔”
وفی الصحیح لمسلم:(2/317،رحمانیہ)
عن عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ قال:اقبل رجل الی نبی اللہﷺفقال ابایعک علی الہجرۃوالجہادابتغی الاجرمن اللہ،قال:فہل من والدیک احدحی قال نعم،بل کلاھما،قال فتبتغی الاجرمن اللہ؟قال نعم!قال فارجع الی والدیک فاحسن صحبتہما
وفی ابی داوٗد:(1/365،رحمانیہ)
“عن عبداللہ بن عمروقال:جاءرجل الی رسول للہﷺفقال یارسول اللہ اجاھد،قال :الک ابوان ؟قال نعم!قال ففیھما فجاھد۔”
وکذافی التاتارخانیة:(18/240،فاروقیہ)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/142،رحمانیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/529،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(8/110،ادارةالقرآن)
وکذافی مجمع الزوائد:(8/177،العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23/4/1443/2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:142

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔