سوال

میرےوالدصاحب 1988ءمیں وفات پاگئے،ہم چاربھائی اورتین بہنیں ہیں،والدصاحب کی زمین چاربھائیوں اورتین بہنوں کےنام لگ گئی، تقریباًچار،یاپانچ سال بعدبہنوں نےیہ زمین خوشی سےچاروں بھائیوں کوہدیہ کردی ،اس دوران آج تک ہم اپنی بہنوں کوعیدوشبرات اورناقی شکیں ،وغیرہ بھی دیتےرہتے،جب ہماری بہنیں ہمارےپاس آتیں توہم ان کی خدمت روپوں یاکپڑوں سےدےکرکرتےتھے،بہنوں نےزمین ہمارےنام لگائےہوئے تقریبا30 سال گزرگئےاب وہ زمین جو30سال پہلےبہنوں نےہدیہ کی تھی وہ زمین ہم نےچھ لاکھ روپےفی ایکڑکےلحاظ سےفروخت کردی،ہم نےاپناحصہ اوروہ زمین جوبہنوں نےہدیہ کی تھی فروخت کردی ۔اب بہنیں مطالبہ کررہی کہ ہدیہ کی ہوئی زمین کی رقم ہمیں دےدو ہماراحق بنتاہے،مہربانی فرماکربتائیں کہ ہدیہ کی ہوئی زمین پربہنوں کاحق ہےیانہیں؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

بہنوں نےجب زمین ہدیہ کردی تھی توان کواب شرعامطالبہ کاکوئی حق نہیں ہے۔

لمافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(395،البشری)
لووھب احدالزوجین لآخرشیأًلیس لہ الرجوع، وکذالک اذاوھب لذی رحم محرم منہ کالاصول والفروع، والعم، والعمۃ، والاخ،والاخت
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/4010،رشیدیہ)
“الثانی صلۃ الرحم،فلایصح الرجوع فی ھبۃذوی الارحام المحارم،لان ھذہ الصلۃ عوض معنوی ۔”
وفی البحرالرائق:(7/500،رشیدیہ)
“فلووھب لذی رحم محرم منہ لایرجع فیھا۔”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(5/190۔رشیدیہ)
وکذافی التنویروالدر:(5/704،سعید) وکذافی المجلة:(28،قدیمی)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(42/151،علوم اسلامیة)
وکذافی السراجیة:(406،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر : 27 فتوی نمبر:51

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔