الجواب حامداومصلیا
شروع میں توخوشی کےموقع پرتعاون باہمی کےطورپرایسی رقم دی جاتی تھی جوکہ درست تھی اب بھی اگرکوئی ایسے مواقع پربطورہبہ،تحفہ کوئی چیزیانقدرقم دیتاہےجس میں ریاءنام ونموداورواپس لینےکی نیت نہ ہوتوجائزہےگناہ نہیں،لیکن شادی بیاہ کےموقع پرجورسم”نیوتہ”کےنام سےجاری ہےاس میں کئی خرابیاں ہیں جن کی وجہ سےجائزنہیں ہے،ان میں سےچندیہ ہیں :1< اس کاحساب وکتاب رکھاجاتاہےاورعموماًدینےوالوں کوایسی تقاریب کےمواقع پرواپس کیاجاتاہے،تویہ قرض کے حکم میں ہواتواس پرقرض کےاحکام جاری ہوں گےاوراس میں عموماًبرابریاکم دینےوالوں کوبراسمجھاجاتاہے،اس لیےاس میں رقم لےکرزیادہ واپس کی جاتی ہےجومشابہ سودہے۔2< بعض اوقات دلی رضامندی کےبغیربرادری کےرکھ رکھاؤکےلیےدی جاتی ہے،جبکہ دلی رضامندی کےبغیرکسی کامال لینا حلال نہیں ہے،ان خرابیوں کی بنیادپر”نیوتہ”لینادینادرست نہیں ہے۔
لمافی الردالمحتار:(5/696،ایچ،ایم،سعید)
وفی الفتاوی الخیریۃ˸سئل فیمایرسلہ الشخص الی غیرہ فی الاعراس ونحوھاھل یکون حکمہ حکم القرض فیلزمہ الوفاء بہ ام لا؟اجاب:ان کان المعروف بأنہم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہ مثلیافبمثلہ ،وان کان قیمیا فبقیمتہ،وان کان المعروف خلاف ذٰلک بأن کانوایدفعونہ علی وجہ الھبۃولاینظرون فی ذالک الی اعطاءالبدل فحکمہ حکم الھبۃ فی سائراحکامہ ، فلارجوع فیہ بعدالہلاک اوالاستھلاک،والاصل فیہ ان المعروف عرفاکالمشروط شرطا،
قلت والعرف فی بلادنامشترک نعم!فی بعض القریٰ یعدونہ قرضاحتی انھم فی کل ولیمۃیحضرون الخطیب یکتب لہم مایہدی فاذاجعل المھدی ولیمۃ یراجع المھدی الدفتر فیھدی الاول الی الثانی مثل مااھدی الیہ
وکذافی کنزالعمال:(5/51،رحمانیہ)
وکذافی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
وکذافی مسندالامام احمد:(6/591،احیاءالتراث)
واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443/2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:183