سوال

ایک آدمی سال شروع ہوتےہی تھوڑےتھوڑےپیسےفقراءومستحقین کودیتارہتاہے،دیتےوقت زکاۃکی نیت کرتاہےاوران کولکھتارہتاہے،سال کےآخرمیں حساب وغیرہ کرکےزکاۃکی بقیہ رقم اداکرتاہے۔اس طرح کرنےسےزکاۃ اداہوجاتی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاںٍ!اداہوجاتی ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/191،ادارةالقرآن)
ویجوزتعجیل الزکاۃقبل الحول[إذاملک نصاباً]عندنا؛لأنہﺃدی بعدوجودسبب الوجوب[کان سبب الوجوب]نصاباًتامّاً، فإن نظرناﺇلی النصاب فالنصاب قدوجد،وان نظرناﺇلی النماءفقدوجدایضاً،لأن العبرۃبسبب النماءوھوالإسامۃ ﺃوالتجارۃ لالنفس النماء،وقدوجدسبب النماء
وفی الموسوعةالفقہیة:(23/294،اسلامیہ)
ذھب جمہورالفقہاء؛ومنہم:الحنفیۃوالشافعیۃوالحنابلۃوﺃبوعبیدوإسحاق إلی ﺃنہ یجوزللزکی تعجیل إخراج زکاۃمالہ قبل میعادوجوبھا،لماورد((ﺃن العباس سأل رسول اللہﷺفی تعجیل صدقتہ قبل ﺃن تحل،فرخص لہ فی ذلک))
وکذافی الھندیة:(1/176،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/264،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1816،رشیدیہ)
وکذافی: المبسوط للسرخسی(2/176،دارالمعرفة)
وکذافی البدائع:(2/164،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/184،فاروقیہ)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/241،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/360،الطارق)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/193،حرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/8/1443/2022/3/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:14

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔