سوال

ایک آدمی سنار سے کہتا ہے مجھے دو تولہ خالص سونا تین ماہ بعد ادا کرنا ،میں قیمت فی الوقت ادا کرتا ہوں ،کیا ریٹ دو گے ؟ سنار کہتا ہے فی الوقت مارکیٹ میں ایک لاکھ دس ہزار خالص فی تولہ سونے کا ریٹ ہے۔ اگر آپ مجھ سے تین ماہ بعد لیں گے اور ادئیگی ابھی کرنی ہے تو میں آپ کو ایک لاکھ پانچ ہزار کے حساب سےدوں گا آدمی دو لاکھ دس ہزار دو تولہ سونے کی قیمت فی الوقت ادا کر کے رسید لے لیتا ہے۔ یہ جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً

اگر کیرٹ اور مارکیٹ میں دیگر معروف صفات کے تعیّن کے ساتھ ہو تو جائز ہے۔

لما فی الفتاویٰ البزازیہ علی ھامش الھندیہ(5/5،رشیدیہ)
”لواشتریٰ مائۃ فلوس بدرھم یکفی التقابض من احد الجانبین․“
وفی فتح القدیر(7/147،رشیدیہ)
لو اشتریٰ مائۃ فلس بدرھم وقبض الفلوس او الدرھم ثم افترقا جاز البیع لانھما افترقا عن عین بدین
وکذا فی التنویر والدر(7/433،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(3/224،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط(14/24،دار المعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی(9/293،دار احیاء تراث العربی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
2/5/1443-2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:197

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔