الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً
اگر کیرٹ اور مارکیٹ میں دیگر معروف صفات کے تعیّن کے ساتھ ہو تو جائز ہے۔
لما فی الفتاویٰ البزازیہ علی ھامش الھندیہ(5/5،رشیدیہ)
”لواشتریٰ مائۃ فلوس بدرھم یکفی التقابض من احد الجانبین․“
وفی فتح القدیر(7/147،رشیدیہ)
لو اشتریٰ مائۃ فلس بدرھم وقبض الفلوس او الدرھم ثم افترقا جاز البیع لانھما افترقا عن عین بدین
وکذا فی التنویر والدر(7/433،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(3/224،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط(14/24،دار المعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی(9/293،دار احیاء تراث العربی)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
2/5/1443-2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:197